نئی دہلی، 3؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزکی نریندر مودی کے زیرقیادت حکومت پر خودکی تعریف کرنے اور عام لوگوں کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس لیڈروں نے بدھ کو راجیہ سبھا میں کہاہے کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی نہ تو گنگا کا پانی صاف ہوا۔ نہ ہی جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد دہشت گردانہ تشدد میں کمی آئی ہے، اس کے برعکس ملک بھر میں مہنگائی اور بے روزگاری نے کووڈ کی وجہ سے پہلے ہی پریشان عام لوگوں کی کمر توڑ دی ہے۔ایوان بالا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے، ایوان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رکن ملکاارجن کھرگے نے دعویٰ کیاہے کہ صدر کا یہ خطاب نہ تو پالیسی دستاویزہے اورنہ ہی کوئی نقطہ نظر۔ اس میں حکومت نے صرف اپنی کامیابیاں بیان کی ہیں۔
عوام کے بنیادی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، درج فہرست ذات و قبائل کے لوگوں کے ساتھ مظالم وغیرہ جوں کا توں ہیں، جن کا اس میں ذکر نہیں ہے۔ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ آج جمہوریت خطرے میں ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ سچ بولنے والے کو غدار قرار دیا جاتا ہے۔ ہم سے بار بار سوال کیا جاتا ہے کہ ہم نے 70 سالوں میں کیا کیا؟ اگر ہم نے 70 سالوں میں کچھ نہ کیا ہوتا تو یہ سوال کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر نہ بیٹھے ہوتے۔انہوں نے کہاہے کہ حکومت کو وراثت میں بہت کچھ ملا لیکن ہم نے جو کام کیا ہے اس کا کریڈٹ لے رہی ہے اور ہم پر اتنے سالوں سے کچھ نہیں کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔بے روزگاری کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہاہے کہ 2014 میں آپ نے کہا تھا کہ ہر سال دو کروڑ لوگوں کو نوکریاں دی جائیں گی۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔نوکریاں نہیں دی گئیں، اس کے برعکس بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ آج تقریباً نو لاکھ سرکاری عہدے خالی ہیں۔ ریلوے میں 15 فیصد، ڈیفنس میں 40 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر میں بھی آسامیاں خالی ہیں۔ پانچ سالوں میں صرف 60 لاکھ لوگوں کو روزگار ملا۔ دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 7.9 فیصد اور شہری علاقوں میں نو فیصد ہے۔ ایم ایس ایم ای سیکٹر میں 60 فیصد یونٹ بند ہیں۔جب ملکاارجن کھڑگے بول رہے تھے تو وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں موجود تھے۔مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کا حوالہ دیتے ہوئے ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ آپ (مودی) نے ایک بار اسے ہماری ناکامی کی زندہ یادگار قرار دیاتھا۔ لیکن ہماری یہ منریگا کوویڈ کے دور میں غریبوں کے لیے سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوئی۔
اس کے باوجود اسے 73 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ آپ نے کوویڈکی مدت کے دوران 100 دن کی ملازمت اور 150 دن کی ملازمت کا وعدہ کیا تھا، لیکن صرف 20 دن کی ملازمت دی گئی۔انہوں نے الزام لگایاہے کہ خطاب میں مہنگائی کا کوئی ذکر نہیں ہے جبکہ 2021 میں 12 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور آج مہنگائی 14.23 فیصد ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر 25 لاکھ کروڑ روپے کمائے۔ لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی رہیں اور اس کی وجہ سے ہر چیز مہنگی ہوتی گئی۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں 117 فیصد اضافہ ہوا۔ 2014 میں ایک سلنڈر کی قیمت 414 روپے تھی جو آج 1000 روپے ہو گئی ہے۔ کیا یہ اچھے دن ہیں؟ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ عام آدمی کا زندہ رہنا مشکل ہوگیاہے۔